مہر خبررسان ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جرمنی کے 30 سے زائد شہروں میں دسیوں ہزار طلبہ نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہروں کا اہتمام نوجوانوں کی نئی تحریک ’’Gen Z Regelt‘‘ نے کیا، جس کا مقصد سماجی اخراجات میں کٹوتیوں، لازمی فوجی بھرتی کی بحالی کے منصوبے اور مہنگائی کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔
انادولو ایجنسی کے مطابق، برلن، ہیمبرگ، میونخ، فرینکفرٹ اور کولون سمیت بڑے شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، جبکہ مزید 29 شہروں میں بھی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا۔ منتظمین کے مطابق، تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار افراد نے آن لائن ان مظاہروں میں شرکت کے لیے رجسٹریشن کرائی تھی۔
اس تحریک میں ہائی اسکولوں اور جامعات کے طلبہ شامل ہیں۔ تحریک نے اپنی ویب سائٹ پر واضح کیا ہے کہ وہ تشدد کو مسترد کرتی ہے اور پُرامن احتجاجی ریلیاں نکالنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
مظاہرین نے سماجی اخراجات میں کٹوتیوں، ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات اور جنگوں و تنازعات کے حوالے سے نوجوانوں کے خدشات کو نظرانداز کیے جانے پر تنقید کی۔
طلبہ نے لازمی فوجی بھرتی کی بحالی کے منصوبے کی بھی مخالفت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے اور عوام کو درپیش مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کے بحران سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
آپ کا تبصرہ